✍️ رائٹرز کے لیے نایاب موقع! جن رائٹر کے 313 مضامین لباب ویب سائٹ پر شائع ہوں گے، ان کو سرٹیفکیٹ سے نوازا جائے گا، اور ان کے مضامین کے مجموعہ کو صراط پبلیکیشنز سے شائع بھی کیا جائے گا!

ایک جملہ اور زندگی برباد!

عنوان: ایک جملہ اور زندگی برباد!
تحریر: بنت اسلم برکاتی

ارمان، فاطمہ (میاں بیوی) اور ارمان کے والدین سبھی اپنی اپنی زندگی میں بہت خوش تھے۔ ایک دن ارمان، فاطمہ کے ساتھ کمرے میں باتیں کر رہا تھا۔ باتوں کے درمیان ہی ارمان کو نہ جانے کیا ہوا کہ اس نے فاطمہ سے کہا:

"کہو تو میں تمہیں طلاق دے دوں؟"

بیوی کو جھٹکا لگا اور اس نے کہا: "ایسا کبھی نہ کیجیے گا۔" اس کے بعد دونوں پھر باتوں میں مشغول ہو گئے۔

دوسری مرتبہ پھر ارمان نے وہی سوال کیا۔ فاطمہ نے سوچا کہ کیا واقعی میں ارمان اسے طلاق دے دے گا؟ اتنا سوچتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

ارمان نے جب یہ دیکھا تو کہا: "اچھا چلو، تمہیں طلاق نہیں دیتا ہوں۔ اب خوش ہو؟"

فاطمہ اندر ہی اندر پریشان ہو رہی تھی کہ آج ان کو ہو کیا گیا ہے؟

آخر کار، تیسری مرتبہ ارمان نے کہا: "میں نے تم کو تین طلاق دی۔"

اتنا کہنا تھا کہ فاطمہ نے رونا شروع کر دیا۔ ارمان نے کہا: "ارے! میں تو مذاق میں کہہ رہا ہوں، طلاق ایسے نہیں ہوتی ہے۔"

لیکن فاطمہ کا رونا بند ہی نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اپنی ساس کے پاس گئی اور سارا ماجرا بیان کیا۔

ساس نے بہت سمجھایا۔ کچھ دیر بعد اس کے سسر بھی آ گئے۔ انہوں نے بھی بہو کے رونے کا سبب پوچھا تو ساس نے ساری باتیں بیان کر دیں۔ سسر مسکرا کر کہنے لگے: "بیٹا! کیوں پریشان ہو رہی ہو؟ طلاق ایسے نہیں ہوتی ہے۔"

پر بہو کسی کی بھی بات نہیں سن رہی تھی، بس روئے جا رہی تھی۔ جب سسر سے دیکھا نہیں گیا تو انہوں نے کہا:

"میں نے بھی تمہاری ساس کو تین طلاق دی، دیکھو کہیں طلاق ہوئی؟"

اب تو بہو کے ساتھ ساتھ ساس نے بھی رونا شروع کر دیا، اور اس طرح باتوں ہی باتوں میں "فرض علوم" نہ سیکھنے کی وجہ سے والد اور بیٹے دونوں نے طلاق دے دی۔ ایک ہنستا کھیلتا گھر برباد ہو گیا۔

یہ کوئی کہانی نہیں، بلکہ حقیقت ہے۔ اس طرح کے نہ جانے کتنے مسائل ہر روز مفتیان کرام کے پاس یا پھر دار الافتاء میں آتے ہیں۔ لوگ "فرض علوم" نہ سیکھنے کی وجہ سے خوشیوں بھری زندگی کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ علم نہ ہونے کے سبب، طلاق ہو جانے کے بعد بھی ایک ساتھ ہی رہتے ہیں اور حرام میں مبتلا رہتے ہیں۔

افسوس! صد افسوس!

آج شادیوں کی تیاریاں مہینوں بلکہ سالوں پہلے سے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ حتی المقدور کسی بھی چیز کی کمی نہیں کی جاتی ہے، بس خیال نہیں ہوتا ہے تو نکاح و طلاق کے مسائل سیکھنے اور سکھانے کی طرف۔

یاد رکھیں! محبت اور اخلاص ہی نکاح کو نہیں بچا سکتے، بلکہ علم اور حکمت بھی ضروری ہے!

کہیں لاعلمی اور ہنسی مذاق میں آپ بھی اپنا گھر نہ اجاڑ بیٹھیں، کیونکہ حدیث مبارک ہے:

”تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور مذاق بھی سنجیدگی ہے (یعنی مذاق میں بھی وہی حکم ہے جو سنجیدگی میں ہے): نکاح، طلاق اور (طلاق کے بعد) رجوع کرنا۔“ (مشکوۃ، باب الخلع والطلاق، ص284، مطبوعہ: کراچی)

امت مسلمہ کے والدین سے گزارش ہے کہ جہاں آپ اپنے بچوں کی شادیوں کی تیاریوں میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے، وہیں آپ اپنے بچوں کو "نکاح و طلاق" کے مسائل سکھانے کا بھی انتظام ضرور کریں، تاکہ آپ کے بچوں کی آنے والی زندگی اور نسلیں سلامت رہیں۔

امت مسلمہ کے نوجوانوں سے بھی اپیل ہے کہ آپ بھی اپنی شادی سے پہلے نکاح و طلاق کے مسائل سیکھنے کا اہتمام ضرور کریں، تاکہ آپ کی زندگی آسان اور خوشحال ہو۔

رب العالمین ہم سبھی کو "فرض علوم" سیکھنے، سمجھنے، عمل کرنے اور دوسروں کو سکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

1 تبصرے

  1. اللہ کریم علم حاصل کرنے اور اس کر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں
جدید تر اس سے پرانی
WhatsApp Profile
لباب-مستند مضامین و مقالات Online
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مرحبا، خوش آمدید!
اپنے مضامین بھیجیں