✍️ رائٹرز کے لیے نایاب موقع! جن رائٹر کے 313 مضامین لباب ویب سائٹ پر شائع ہوں گے، ان کو سرٹیفکیٹ سے نوازا جائے گا، اور ان کے مضامین کے مجموعہ کو صراط پبلیکیشنز سے شائع بھی کیا جائے گا!

اسلام میں وراثت کا حق اور اس کی اہمیت

عنوان: اسلام میں وراثت کا حق اور اس کی اہمیت
تحریر: سلمیٰ شاھین امجدی کردار فاطمی

اللہ رب العزت نے اسلام میں ایک مکمل نظامِ وراثت عطا فرمایا ہے، جس میں ہر وارث کو اس کا مقررہ حق دیا گیا ہے۔ اگر اس اسلامی نظام پر عمل کیا جائے تو ہر مرد و عورت کو اس کا حق ملے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔

ابتدا میں مسلمان عورتیں بھی اپنے حقوق سے واقف تھیں، وراثت کا علم حاصل کرتی تھیں اور وقت آنے پر اس کا مطالبہ بھی کرتی تھیں، لیکن آج کے دور میں بہت سی خواتین اپنے اس حق سے محروم رہتی ہیں۔

قرآن کریم میں وراثت کے اصول:

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں وراثت کے اصول بیان کیے ہیں۔

سورہ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ-فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًاؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُۚ-فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍۙ-غَیْرَ مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ [سورہ نساء: 12-11]

ترجمۂ کنز الایمان: اللّٰہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں؛ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر۔ پھر اگر نری لڑکیاں ہوں، اگرچہ دو سے اوپر، تو ان کو ترکہ کی دو تہائی۔ اور اگر ایک لڑکی، تو اس کا آدھا۔ اور میت کے ماں باپ کو، ہر ایک کو، اس کے ترکہ سے چھٹا؛ اگر میت کے اولاد ہو۔ پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو، اور ماں باپ چھوڑے، تو ماں کا تہائی۔ پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی، تو ماں کا چھٹا، بعد اس وصیت کے، جو کر گیا، اور دَین کے۔ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا؟ یہ حصہ باندھا ہوا ہے، اللّٰہ کی طرف سے۔ بے شک اللّٰہ، علم والا، حکمت والا ہے۔

اور تمہاری بیبیاں، جو چھوڑ جائیں، اس میں سے تمہیں آدھا ہے، اگر ان کی اولاد نہ ہو۔ پھر اگر ان کی اولاد ہو، تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے، جو وصیت وہ کر گئیں، اور دَین نکال کر۔ اور تمہارے ترکہ میں، عورتوں کا چوتھائی ہے، اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔ پھر اگر تمہاری اولاد ہو، تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں، جو وصیت تم کر جاؤ، اور دَین نکال کر۔ اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو، جس نے ماں باپ، اولاد کچھ نہ چھوڑے، اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہو، تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا۔ پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں، تو سب تہائی میں شریک ہیں، میت کی وصیت اور دَین نکال کر، جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو۔ یہ اللّٰہ کا ارشاد ہے، اور اللّٰہ، علم والا، حِلم والا ہے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ وراثت کا معاملہ انسانی خواہشات پر نہیں، بلکہ اللہ کے احکامات کے مطابق طے پاتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں وراثت کے احکام:

وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ. (سنن الترمذی: 2092)

"بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، پس کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔

یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ وراثت میں کسی بھی وارث کو زیادہ یا کم کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ جو حق شریعت نے مقرر کر دیا ہے، وہی دیا جائے گا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَطَعَ مِيرَاثًا فَرَضَهُ اللَّهُ وَرَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ. (سنن ابن ماجہ: 2703)

جو شخص کسی وارث کو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ میراث سے محروم کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جہنم کی آگ سے وارث بنا دے گا۔

یہ حدیث ہمیں خبردار کرتی ہے کہ جو لوگ بہن، بیٹی یا کسی اور وارث کو اس کے حق سے محروم کرتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور فدک کا واقعہ:

جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا سے فدک کی زمین کی وراثت کا مطالبہ کیا، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ کی حدیث سے جواب دیا:

إِنَّا مَعْشَرَ الأَنْبِيَاءِ لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ. (البخاری، حدیث: 4240، المسلم، حدیث: 1759)

انبیاء علیہم السلام کا ترکہ مال وارثت نہیں بنتا بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ وراثت کے معاملے میں اللہ ربّ العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو قبول کرنا ضروری ہے، چاہے وہ فیصلہ ہمارے ذاتی جذبات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

سلف صالحین کی خواتین اور وراثت:

سلف صالحین کی خواتین وراثت کے اصولوں کو جانتی تھیں اور اگر انہیں ان کا حق نہ دیا جاتا تو وہ اس کا مطالبہ بھی کرتی تھیں۔ وہ اس بات کو سمجھتی تھیں کہ شوہر یا والد کی وفات کے بعد جائیداد کو شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جانا چاہیے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے حقوق کے بارے میں غافل نہیں تھیں اور اللہ رب العزت کے احکامات کی مکمل پاس داری کرتی تھیں۔

مگر آج کے دور میں بیشتر خواتین کو وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اکثر خاندانوں میں بیٹے جائیداد پر قبضہ کر لیتے ہیں اور بیٹیوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے، جو کہ ناجائز اور صریح ظلم ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(13)وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا ۪- وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ [النساء: 13-14]

ترجمۂ کنز الایمان: یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی ۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے۔

یہ آیت ان لوگوں کے لیے سخت وارننگ ہے جو وراثت کے معاملے میں بددیانتی کرتے ہیں۔

وراثت کی تقسیم میں خواتین کی ذمہ داری:

آج کی خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے شرعی حقوق سے واقف ہوں اور اپنے شوہر یا والد کی وفات کے بعد وراثت کی تقسیم کو اللہ رب العزت کے احکام کے مطابق یقینی بنائیں۔ اس معاملے میں کسی قسم کی بددیانتی، تاخیر یا ہیرا پھیری سے کام نہ لیں۔

کیوں کہ وراثت اللہ رب العزت کا مقرر کردہ حق ہے، جس میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ ناجائز ہے۔

بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کو ان کا حق دیا جائے، کسی کو محروم کرنا ظلم اور حرام ہے۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں وراثت کی دیانت داری سے تقسیم کرنا ہماری شرعی ذمہ داری ہے۔

اللہ ہمیں عدل و انصاف پر قائم رکھے اور وراثت کو صحیح طریقے سے تقسیم کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

مضمون نگار رضویہ اکیڈمی للبنات ابراہیم پور، ضلع اعظم گڑھ (یوپی) کی فاؤنڈر و صدر المعلمات اور خواتین اصلاح امت ٹیم کی صدر ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی
WhatsApp Profile
لباب-مستند مضامین و مقالات Online
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مرحبا، خوش آمدید!
اپنے مضامین بھیجیں