عنوان: | حقیقی خوشیوں کا راز |
---|---|
تحریر: | مفتیہ رضیؔ امجدی غفر لھا |
رنج اٹھانے سے بھی خوشی ہوگی
پہلے دل__”درد آشنا“ کیجیے
ہمہ دم یمِ زندگی رواں دواں ہے، جو چلتا رہتا ہے–––––– مسلسل–––––– مستقل۔ اس جہانِ رنگ و بو میں ہر طرف ہر شخص مصروفِ کار نظر آتا ہے اور اپنی مطلوبہ شے کے حصول کے لیے سرگرداں ہے––––––مطلوبہ شے کو مقصد یا ہدف سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، اور ہر شخص کا منتہائے نظر ہدف ایک ہی ہے، البتہ ذرائع مختلف ہیں، حصولِ ہدف کے راستے علیحدہ ہیں، وسائل متفرق ہیں۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہر شخص کا ہدف و مقصد ایک کیسے ہو سکتا ہے–––––– کیونکہ! کوئی تو وہ ہے جو مال و منال کے حصول میں کوشاں ہے، کوئی پائلٹ بننا چاہتا ہے تو کوئی انجینئر بننے کا خواہاں، کوئی ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کرنے میں لگا ہے تو کوئی عالیشان محل میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کا متمنی، کوئی حافظِ قرآن بننا چاہتا ہے تو کوئی عالمِ دین، کوئی شاعرِ بے مثال بننا اپنا مطلوب مقرر کیے ہوئے ہے تو کوئی محررِ باکمال، کوئی وصالِ یار کا متجسس، تو کوئی فراقِ یار کے جلوؤں میں گم ہوجانے کو ہی اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔
الغرض، ہر شخص اپنے مطلوب کو حاصل کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔
لیکن–––––– کسی بھی فرد سے آپ سوال کریں کہ تجھے کیا چاہیے؟ تو اپنی اس حیاتِ چند روزہ میں کیا چاہتا ہے؟
تو وہ یہی کہے گا: ”خوشی“
آپ اس سے پوچھیں جو پائلٹ بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے سرگرداں عمل ہے، یا اس سے جو مال و منال حاصل کرنے میں مصروف ہے، کسی تاجر سے پوچھیں یا ڈاکٹر سے، کسی مزدور سے پوچھیں یا انجینئر سے، ہر شخص کا منتہائے نظر قول ایک ہی ہوگا: ”خوشی“
مختصر یہ کہ ہر شخص خوشی کا متلاشی و متمنی ہے۔
ہر چند کہ مختلف لوگ مختلف چیزوں میں خوشیاں تلاش کرتے ہیں، مگر۔۔! تلاش کرتے ”خوشیاں“ ہی ہیں۔
تمام مشاغل میں حصولِ فرحت و نشاط کی تاثیر ہے، جو تمام مقاصد میں تحلیل کرتی ہے۔
بہرکیف! اب توجہ طلب بات یہ ہے کہ خوشیاں تلاش کون کرتا ہے؟ ”انسان“
تو یہ بھی جاننا ضروری ہوا کہ انسان کہتے کس کو ہیں؟ انسان بنا کس سے ہے؟
اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ۔ (الحجر:26)
ترجمہ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے انسان کو بجتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا، جو پہلے سیاہ سڑا ہوا گارا تھی۔
دوسری جگہ فرماتا ہے:
فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ۔ (الحجر:29)
ترجمہ کنزالایمان: تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور اس میں اپنی طرف کی خاص معزز روح پھونک لوں تو اس کے لیے سجدے میں گر جانا۔
حاصل یہ نکلا کہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے: مادہ اور باطن (جسم و روح)، اور ہر دو کے تقاضے مختلف ہیں، جن کا پورا کرنا از حد ضروری ہے۔
پس، جسمِ انسانی مادی اور روحانی طور پر اپنی بقا و ترقی کے لیے مختلف چیزوں پر انحصار کرتا ہے، جن کی اہمیت اس کی نشو و نما، ترقی و بقا کے لیے ضروری ہے۔ جسمانی تقاضوں کی تکمیل کے لیے مختلف اشیاء کی حاجت درپیش ہے، مثلاً:
اسی طرح روحانی تقاضوں کی تکمیل بھی اس کی ترقی و بقا کے لیے لازم ہے۔
روحانی تقاضے چند سرِ فہرست ہیں، مثلاً:
تمام عام و خاص عبادتیں روحانی تقاضوں کے ضمن میں آتی ہیں۔
اور ہر دو (جسم و روح) کے تقاضوں کی بیک وقت تکمیل ہی انسانی خوشیوں کی ضامن ہے۔
مگر، ہمارا المیہ یہ ہے کہ جسم کے تقاضوں کا تو ہمیں احساس ہوتا ہے، اس کی بھرپور تکمیل بھی کرتے ہیں، مگر روح کے تقاضوں کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ اسی لیے آج ہر شخص تکالیف و آلام کا ڈھول پیٹتا نظر آتا ہے کہ پریشانیوں نے اسے پریشان کر دیا ہے، خوشیاں اس سے کوسوں دور ہو چکی ہیں، وہ صبر و ضبط کے کثیرہا مراحل طے کر چکا ہے، اور اس کی امید کی کرنیں مدھم سے مدھم تر ہوتی جا رہی ہیں۔
وجہ صرف یہی ہے کہ اس کا ظاہری وجود تو بے خراش ہے، مگر اس نے روحانی تقاضوں کی طرف عدم توجہی کی وجہ سے اپنے باطنی وجود کو پاش پاش کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کی روحانیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے، اس نے اپنی شخصیت کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے، کیونکہ جب انسان خدا سے جدا ہو جائے تو سکون اس سے دور کر دیا جاتا ہے۔
دیکھیں–––––– خوشیوں کا انحصار خارجی چیزوں پر نہ کریں، دائمی خوشیاں خواہشوں کی تکمیل سے نہیں ملتیں۔ خوشیاں انسان کے اندر ہوتی ہیں، محض تلاش کی ضرورت ہے، بلکہ اپنی حاصل شدہ چیزوں میں خوشیاں تلاش کریں، زندگی میں آنے والی مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کریں، ہمت پست نہ کریں کہ یہ خوشی کے ثبات کا سبب بنے گا، دوسروں کی نعمتوں پر حسد نہ کریں کہ حاسد ان نعمتوں سے بھی لطف اندوز نہیں ہو پاتا جو اس کے پاس ہوتی ہیں۔
حاصل پر قناعت کریں اور شکر گزاری کے جذبے کو قائم رکھیں، ورنہ عدمِ قناعت کا وبال یہی ہے کہ، مثلاً:
جو شخص ایک کمرے میں خوش نہیں ہے، وہ دس کمرے پا کر بھی خوش نہیں ہو سکتا، جو ایک گاڑی میں خوش نہیں، اسے دس گاڑیاں بھی میسر آ جائیں، تب بھی وہ خوشی حاصل نہیں کر سکتا، اسے مزید کی خواہش ہوگی۔
لہٰذا، قناعت کو لازم پکڑیں––––––ان عوامل کی تکمیل کی صورت میں آپ دائمی خوشیاں حاصل کر سکتے ہیں اور اس سے بھرپور لطف اندوز بھی ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا، اگر آپ سکون اور خوشیوں کے متلاشی و متمنی ہیں، تو تقربِ الٰہی کو مقصدِ زیست بنائیں اور تقاضائے انسانیت کے تمام پہلوؤں پر نظر رکھیں–––––– خوشیاں آپ کے دامن میں ہوں گی۔ ان شاء اللہ العزیز!
اِن شاء اللہ تعالیٰ
جواب دیںحذف کریںآپ کے مضامین سے عورتوں کو حوصلہ ملتا ہے
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
حذف کریں