✍️ رائٹرز کے لیے نایاب موقع! جن رائٹر کے 313 مضامین لباب ویب سائٹ پر شائع ہوں گے، ان کو سرٹیفکیٹ سے نوازا جائے گا، اور ان کے مضامین کے مجموعہ کو صراط پبلیکیشنز سے شائع بھی کیا جائے گا!

خوش قسمت کون؟

عنوان: خوش قسمت کون؟
تحریر: سلمی شاھین امجدی کردار فاطمی

گزشتہ شب اچانک آنکھ کھلی تو دل میں سوال پیدا ہوا: اٹھنے کی وجہ کیا ہے؟ کافی دیر تک سوچتی رہی۔ اچانک نظر گھر میں رکھے کعبۂ معظمہ کے طغرے پر پڑی۔ یہاں سے خیالات کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ میں نے تصور کیا کہ بیت اللہ میں لاکھوں کا مجمع ہوتا ہے۔ یہ سب کتنے خوش نصیب ہیں جو اس مقدس مقام پر حاضر ہوتے ہیں۔

پھر دل نے ایک اور سوال اٹھایا: کیا صرف وہی خوش قسمت ہیں جو بیت اللہ میں حاضر ہوتے ہیں؟ اسی لمحے خیال آیا کہ کچھ نیک بندے ایسے بھی گزرے ہیں جنہیں دنیا میں یہ دربار میسر نہیں ہوا، حالانکہ وہ اعلیٰ مقام پر فائز اور حقیقی کامیاب تھے۔

اس کے برعکس ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ جیسے لوگ روزانہ بیت اللہ سے وابستہ تھے، لیکن ان کے دل ایمان کی روشنی سے محروم تھے۔ وہی لوگ بدقسمت کہلائے کیونکہ اللہ رب العزت پر ایمان نہ لائے۔

بالآخر دل نے فیصلہ سنایا: حقیقی خوش قسمت وہ ہے جو اللہ کے قریب ہو، جو اپنی زندگی دین کے اصولوں کے مطابق بسر کرے۔ ایسے لوگ اپنی عبادات میں وہ اعمال کرتے ہیں جو اللہ کی رضا کا سبب بنتے ہیں۔

خوش نصیب وہ ہے جو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کو رات سونے سے پہلے پڑھتا ہو کیونکہ یہ پوری رات کی عبادت کے برابر ہیں۔

وہ ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہو کیونکہ یہ حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔

سورہ اخلاص کو تین مرتبہ پڑھنا مکمل قرآن کے برابر ہے اور خوش قسمت شخص اس کا اہتمام کرتا ہے۔

ایک مومن کے لیے دوسرے مومن مرد و خواتین کے لیے استغفار کرنا اور مرحومین کے لیے ایصال ثواب کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے۔ خوش نصیب وہی ہے جو اس عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے۔

تسبیحِ فاطمی ( سبحان اللہ 33 مرتبہ، الحمد للہ 33 مرتبہ، اللہ اکبر 34 مرتبہ) کا ورد دنیا و آخرت کی بھلائیوں کو پانے کا ذریعہ ہے۔ خوش قسمت شخص اس کا اہتمام کرتا ہے۔

اسی طرح مغرب اور فجر کے بعد ”لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير“ دس مرتبہ کہنا چار غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب کا باعث ہے۔ خوش نصیب شخص اسے بھی اپنی زندگی میں شامل کرتا ہے۔

اذان کے بعد نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب ہو، اس کی دعا کرنا ایک عظیم عمل ہے اور خوش نصیب وہی ہے جو اس کا بھی اہتمام کرے۔

روزانہ قرآن پاک کا ایک پارہ پڑھنا تقریباً 30 منٹ لیتا ہے، اور جو شخص اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر قرآن کی تلاوت کرتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک کامیاب ہے۔

پانچ وقت کی نمازوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ روزانہ سو مرتبہ ”سبحان اللہ وبحمدہ“ کا ورد کرنے والا وہ خوش نصیب ہے جس کے تمام گناہ اللہ معاف کر دیتا ہے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔

آخرکار یہ بات واضح ہوئی کہ حقیقی خوش نصیب وہی ہے جو نیک اعمال کی طرف رہنمائی کرے اور خود بھی ان پر عمل کرے۔ ایسے لوگ نہ صرف اپنی دنیا کامیاب بناتے ہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کی راہ بھی ہموار کرتے ہیں۔

اللہ رب العزت ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں خوش قسمت لوگوں میں شامل کرے۔ آمین۔

مضمون نگار رضویہ اکیڈمی للبنات ابراہیم پور، ضلع اعظم گڑھ (یوپی) کی فاؤنڈر و صدر المعلمات اور خواتین اصلاح امت ٹیم کی صدر ہیں۔ {alertInfo}

1 تبصرے

جدید تر اس سے پرانی
WhatsApp Profile
لباب-مستند مضامین و مقالات Online
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مرحبا، خوش آمدید!
اپنے مضامین بھیجیں