عنوان: | وہ محبت ہے! |
---|---|
تحریر: | مفتیہ رضیؔ امجدی غفر لھا |
فطرت کو خرد کے روبرو کر
تسخیرِ جہانِ رنگ و بو کر
محبت سرشتِ آدم ہے۔ اس زمینی سفر میں اگر کوئی چیز آفاقی ہے تو وہ محبت ہے۔ جذبۂ ایثار و محبت انسان کی فطرت میں ودیعت کر دی گئی ہے۔ محبت اس کا خمیر و ضمیر ہے، اس کی اصل ہے، اس کی فطرت ہے۔ خلقِ خدا سے محبت خود شناسی و خدا شناسی کی کنہ ہے۔ محبتِ بشری ہی تقربِ الہی کا زینہ ہے۔ مخلوق سے محبت کیے بغیر تقربِ الہی کی تمنا محض سراب ہے۔
خلقِ خدا کی محبت سے جو شخص آزادی کا قائل ہو، وہ کسی سے محبت نہیں کر سکتا۔ نہ خود سے، نہ خدا سے، نہ رسول ﷺ سے، نہ ہی دینِ اسلام سے۔ محبت ہی حسنِ زندگی ہے، روح کی تازگی ہے، عقل کی بالیدگی ہے۔ یہ تقربِ الہی حاصل کرنے کا عظیم وسیلہ ہے۔
مگر آج کا انسان محبتِ بشری سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ رشتوں کی تقدیس پامال ہو چکی ہے۔ اولاد والدین سے بیزار، بھائی بھائی سے بے گانہ، استاد شاگرد سے نالاں نظر آ رہے ہیں۔ انسان، انسانوں سے مایوس ہو چکا ہے۔ انسان کا میلان اور اس کی محبت انسانوں سے ختم ہوتی جا رہی ہے، بلکہ وہ انسان کا قائل ہی نہیں رہا۔ آج کا انسان محض دولت و شہرت کا قائل ہے۔
اس کی محبت کا محور فقط مال و منال اور شہرت طلبی ہے۔ رفاقت و عداوت کی بنیاد محض سرمایہ (مال) ہے۔ دولت ہی دوستی کا سبب ہے اور وہی دشمنی کا باعث بھی۔ ان بے جان اشیاء کی محبت نے انسان کو اخلاقی قدروں سے محروم کر دیا ہے۔ اپنوں سے اپنائیت کا قولی و عملی اظہار، ان کے ساتھ رحم دلی، حسنِ سلوک، نوازش و تلطف، ہمدردی و کرم، یہ سب اس کے نزدیک لا یعنی باتیں ہو کر رہ گئی ہیں۔
وہ رشتوں کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر غفلت کی نیند سو رہا ہے۔ مال و منال کی محبت نے اس کی بینائی چھین لی، وہ اندھا ہو چکا ہے۔ اس کی آنکھ تب کھلتی ہے جب بند ہونے لگے۔ وہ اپنی ذات کا سکون بے جان چیزوں میں ڈھونڈ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے حسی اس کا مقدر بنتی جا رہی ہے۔ یہی بے حسی اور خود پسندی کی "وبا" انسان کی انسانوں سے بے زاری کا باعث ہے۔
اس دورِ بے حسی میں محبت نایاب سے نایاب تر ہو رہی ہے۔ ناشناسائی عروج پر ہے۔ اپنے سپنے ہو رہے ہیں۔ وابستگیاں کب بے اعتنائیوں میں بدل جاتی ہیں، احساس ہی نہیں ہوتا۔
عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا کی برق رفتاری کا اندازہ ہر کس و ناکس کو ہے۔ ذرائع ابلاغ و ترسیل کی وسعتیں لا محدود ہو چکی ہیں۔ ہر شخص اپنا قیمتی وقت زیادہ تر سوشل میڈیا پر خرچ کر رہا ہے۔ جان لیں کہ ذہنی و قلبی دوری میں اِس کا بڑا کردار ہے۔
فی زمانہ سوشل میڈیا کا سلسلہ بڑے زوروں پر ہے۔ لوگ اس قدر اس میں منہمک ہو چکے ہیں کہ پاس بیٹھا انسان بھی پاس نہیں ہوتا۔ بظاہر ایک دوسرے کے قریب، مگر حقیقت میں ایک دوسرے سے بے گانہ۔
رشتوں میں وہ پائیداری، وہ استقامت، وہ خلوص و محبت باقی نہ رہی۔ آج کی آشنائی اتنی ہی دیر تک سانس لیتی ہے جتنی دیر کچے رنگوں سے بنی ہوئی تصویر متواتر بارش میں اپنی ہیئت برقرار رکھ سکتی ہے۔ یاد رہے، استقامت رشتوں کی جان ہے۔ جس رشتے میں استمرار و استقلال نہیں، وہ بے جان ہے، رائیگاں ہے، بے کار ہے۔
اگر آج انسان کی ذاتی و عملی زندگی کا بنظرِ غائر معائنہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ آج کا انسان غیر فطری زندگی بسر کر رہا ہے۔ فطرت سے ہٹ کر زندگی سکون کے ساتھ زندہ کیسے رہ سکتی ہے؟
زندگی کی اصل رونق ہی فطرت سے قربت اور اس سے آشنائی میں ہے۔ تقربِ خلق ہی تقربِ انسانیت ہے۔ ہمارے ظاہر و باطن کا نکھار جمالِ ہم نشیں سے ہی متأثر ہوتا ہے۔ محبت ہی حسن کا راز ہے، زندگی کی معراج ہے، شعور و آگہی کی اساس ہے۔
انسانی محبت سے محروم لوگ نظریات کی گرفت میں آ چکے ہیں۔ یہ بات کہنے کی نہیں، محض غور کرنے کی ہے۔
کائنات کا حسن دیکھنا ہو تو محبت کے آئینے میں دیکھو۔ محبت ہی کے ذریعے انسان پر زندگی کے معنی منکشف ہوتے ہیں۔ اپنی ذات خود پر آشکار ہوتی ہے۔ اگر قلوب نورِ محبت سے منور نہ ہوں تو روشنیوں کا ہجوم اور چراغوں کے میلے کس کام کے؟
محبت انسانی سانسوں کے ریشم سے بُنا ہوا ایک نازک جذبہ ہے۔ یہی جذبہ روح کو غذا، خرد کو جِلا بخشتا ہے۔ اس خوبصورت، نازک جذبے کو پامال ہونے سے بچائیں۔
اس لیے اٹھیں اور اس انحطاط پذیر محبت کو صعود و عروج بخشیں۔ زندگی کو فطرت سے ہم آہنگ کریں۔ محبت ہی کو ادراک و آگہی کی اساس بنائیں تاکہ اپنوں کے ایثار و محبت کا چراغاں ہماری روح کو تا دیر روشن و تاباں رکھے۔
محبتِ بشری کو حیات کا حصہ اور الفت و ایثار کو اپنا شعار بنائیں۔ اس کائنات کی ہمہ رنگ نیرنگیوں کو دیکھنے کے لیے محبت سے سرشار دل اور ذوقِ نظر درکار ہے۔
بقول:
یہ کائنات ہے جلوؤں کی داستان رضؔی
نہ ہو جو ذوقِ نظر، درک ہو جمال کہاں
اس لیے دلوں میں محبت و رأفت کا چراغاں کریں۔ کھوئی ہوئی محبتوں کو پھر سے زندہ کریں۔ الفت و رواداری کی فضا قائم کریں اور پھر زندگی کا حسن دیکھیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فطرت سے محبت کے ساتھ ساتھ فطری زندگی بسر کرنے کی توفیق بخشے نیز مصنوعی و غیر فطری زندگی سے نجات عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
محبت اور محبت کا شجر باقی رہے گا
چلے جائیں گے ہم لیکن سفر باقی رہے گا
ما شاء اللہ بہت خوب
جواب دیںحذف کریں