عنوان: | زہد و قناعت اور دنیاوی لذتوں سے کنارہ کشی |
---|---|
تحریر: | بنت اسلم برکاتی |
انسان کو جو کچھ خدا کی طرف سے مل جائے، اُس پر راضی ہو کر زندگی گزر بسر کرتے ہوئے حرص و لالچ کو چھوڑ دینا "قناعت" کہلاتا ہے۔ قناعت کی عادت انسان کے لیے خدا کی بہت بڑی نعمت ہے۔ قناعت پسند انسان ہمیشہ سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال رہتا ہے اور دنیاوی لذتوں سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوتا ہے۔
حضور پرنور ﷺ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہر چیز کے مالک ہیں اور آپ ﷺ جیسی چاہتے ویسی شاہانہ زندگی بسر فرما سکتے تھے، لیکن آپ ﷺ نے اس زندگی پر قدرت و اختیار کے باوجود زُہد و قناعت سے بھرپور اور دنیا کے عیش و عشرت سے دور رہتے ہوئے زندگی بسر فرمائی۔ آپ کی صحبت سے فیض یافتہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے بھی اسی طرح زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی، جیسا کہ احادیث مبارکہ میں ہے:
عن عائشة رضي الله عنها، قالت:كان ياتي علينا الشهر ما نوقد فيه نارا، إنما هو التمر والماء، إلا ان نؤتى باللحيم. (بخاری: 6458)
حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمارے اوپر ایسا مہینہ بھی گزر جاتا تھا کہ چولھا نہیں جلتا تھا، صرف کھجور اور پانی ہوتا تھا، ہاں اگر کبھی کسی جگہ سے کچھ تھوڑا سا گوشت آ جاتا تو اس کو بھی کھا لیتے تھے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (جَو کی) روٹی کا ایک ٹکڑا نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ پہلا کھانا ہے جو تین دن کے بعد تمہارے والد کے منہ میں داخل ہوا ہے۔ (معجم الکبیر، ومما اسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ، 1/258، الحدیث: 750)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ۔ (مسلم:2970)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، انھوں نے کہا: محمد ﷺ کے گھر والوں نے جب سے آپﷺ مدینہ آئے آپ کی وفات تک کبھی تین راتیں مسلسل گندم کی روٹی سیرہو کرنہیں کھائی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پر آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی عمل کرکے دکھایا، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عزوجل کی قسم! ہمیں بھی زندگی کی لذّتیں حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور ہم بھی یہ حکم دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے لئے چھوٹی بکری بھونی جائے، میدے کی روٹی اور مشکیزے میں نبیذ بنائی جائے، یہاں تک کہ جب گوشت چکور (یعنی تیتر کی مثل پہاڑی پرندے کے گوشت) کی طرح (نرم) ہو جائے تو اسے کھائیں اور نبیذ پئیں۔ لیکن (ہم ایسا نہیں کرتے بلکہ) ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ پاکیزہ چیزوں کو آخرت کے لئے بچا لیں۔ کیونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سن رکھا ہے:
"اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا" (احقاف: 20)
ترجمہ کنز العرفان: تم اپنے حصے کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے۔ (حلیۃ الاولیاء، عمر بن الخطاب، 1/85، الحدیث: 118)
اسی طرح امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ بزرگانِ دین کے زُہد و قناعت اور دُنْیَوی لذّتوں سے کنارہ کشی کے واقعات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: خلاصہ یہ ہے کہ نفس کو جائز خواہشات کے لئے بھی کھلی چھٹی نہیں دینی چاہئے اور نہ ہی یہ ہونا چاہئے کہ اس کی ہر حال میں پیروی کی جائے۔ بندہ جس قدر خواہشات کو پورا کرتا ہے، اسی قدر اسے اس بات کا ڈر بھی ہونا چاہئے کہ کہیں قیامت کے دن اس سے یہ نہ کہہ دیا جائے: اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا۔
اور جس قدر بندہ اپنے نفس کو مجاہدات میں ڈالے گا اور خواہش کو چھوڑے گا، اسی قدر آخرت میں من پسند چیزوں سے نفع اٹھائے گا۔ (احیاء علوم الدین، کتاب کسر الشہوتین، بیان طریق الریاضۃ فی کسر شہوات البطن، 3/118)
اللہ کریم ہمیں زہد و قناعت اختیار کرنے، دنیا کی عیش و عشرت اور لذتوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!